Top Urdu Ghazal

Top Urdu Ghazal – Mujhe door Sawera dikhai padta hai

Top Urdu Ghazal

افق اگرچہ پگھلتا دکھائی پڑتا ہے

 مجھے تو دُور سویرا دکھائی پڑتا ہے
ہمارے شہر میں بے چہرہ لوگ بستے ہیں

 کبھی کبھی کوئی چہرہ دکھائی پڑتا ہے
چلو کہ اپنی محبت سبھی کو بانٹ آئیں

 ہر ایک پیار کا بھوکا دکھائی پڑتا ہے
جو اپنی ذات سے اک انجمن کہا جائے

 وہ شخص تک مجھے تنہا دکھائی پڑتا ہے
نہ کوئی خواب، نہ کوئی خلش، نہ کوئی خمار

 یہ آدمی تو ادھورا دکھائی پڑتا ہے
لچک رہی ہیں شعاعوں کی سیڑھیاں پیہم

 فلک سے کوئی اترتا دکھائی پڑتا ہے
چمکتی ریت پہ یہ غسلِ آفتاب ترا

بدن تمام سنہرا دکھائی پڑتا ہے
طلحہ عزیر پاکیزہ اورنگ آبادی

Allama Iqbal shayari

Allama Iqbal shayari – na wo ishq me rahe garmiya’n

Allama Iqbal shayari

کبھی اے حقیقت منتظر، نظر آ لباسِ مجاز میں

کہ ہزاروں سجدے تڑپ رہے ہیں مری جبینِ نیاز میں

تو بچا بچا کہ نہ رکھ اسے ، ترا آئینہ ہے وہ آئینہ

جو شکستہ ہو تو عزیز تر ہے نگاہِ آئینہ ساز میں

نہ وہ عشق میں رہیں گرمیاں، نہ وہ حسن میں رہیں شوخیاں

نہ وہ غزنوی میں تڑپ رہی، نہ وہ خم ہے زلفِ ایاز میں

جو میں سربسجدہ ہوا کبھی ، تو زمیں سے آنے لگی صدا

تیرا دل تو ہے صنم آشنا، تجھے کیا ملے گا نماز میں

علامہ اقبال

Urdu Ghazals

Urdu Ghazals – suna hai log use ankh bhar ke dekhte hai

Urdu Ghazals(Faraz Sahab)

سنا ہے لوگ اُسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں

تو اس کے شہر میں‌ کچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے ربط ہے اس کو خراب حالوں سے

سو اپنے آپ کو برباد کر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے درد کی گاہک ہے چشمِ ناز اس کی

سو ہم بھی اس کی گلی سے گزر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے اس کو بھی ہے شعروشاعری سے شغف

تو ہم بھی معجزے اپنے ہنر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں

یہ بات ہے تو چلو بات کر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے رات اسے چاند تکتا رہتا ہے

ستارے بام فلک سے اتر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے دن کو اسے تتلیاں ستاتی ہیں

سنا ہے رات کو جگنو ٹھہر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے حشر ہیں‌ اس کی غزال سی آنکھیں

سنا ہے اس کو ہرن دشت بھر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے رات سے بڑھ کر ہیں‌ کاکلیں اس کی

سنا ہے شام کو سائے گزر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے اس کی سیاہ چشمگی قیامت ہے

سو اس کو سرمہ فروش آہ بھر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے جب سے حمائل ہیں اس کی گردن میں

مزاج اور ہی لعل و گوہر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے اس کے بدن کی تراش ایسی ہے

کہ پھول اپنی قبائیں کتر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے اس کے لبوں سے گلاب جلتے ہیں

سو ہم بہار پہ الزام دھر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے آئینہ تمثال ہے جبیں اس کی

جو سادہ دل ہیں‌ اسے بن سنور کے دیکھتے ہیں
سنا ہے چشمِ تصور سے دشتِ امکاں میں

پلنگ زاویے اس کی کمر کے دیکھتے ہیں
وہ سرو قد ہے مگر بے گل مراد نہیں

کہ اس شجر پہ شگوفے ثمر کے دیکھتے ہیں
بس اک نگاہ سے لوٹا ہے قافلہ دل کا

سو رہ روان تمنا بھی ڈر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے اس کے شبستاں سے متُّصل ہے بہشت

مکیں‌ اُدھر کے بھی جلوے اِدھر کے دیکھتے ہیں
کسے نصیب کہ بے پیرہن اسے دیکھے

کبھی کبھی در و دیوار گھر کے دیکھتے ہیں
رکے تو گردشیں اس کا طواف کرتی ہیں

چلے تو اس کو زمانے ٹھہر کے دیکھتے ہیں
کہانیاں ہی سہی ، سب مبالغے ہی سہی

اگریہ  خواب ہے تعبیر کر کے دیکھتے ہیں
اب اس کے شہر میں‌ٹھہریں کہ کوچ کر جائیں

فراز آؤ ستارے سفر کے دیکھتے ہے

dard bhari shayari

Dard bhari shayari – pyar ka badal new shayari

dard bhari shayari

​حیا آنکھوں میں سر پر پیار کا بادل نہیں ہوتا 

بہت شرمندگی ہوتی ہے جب آنچل نہیں ہوتا

میری آنکھوں میں تم احساس کی تحریر مت ڈھونڈ ڈھو

نکل آتے ہیں جب آنسوں تو پھر کاجل نہیں ہوتا

Faraz author poetry in urdu

یہ تو اُسکا ہی کرشمہ ہے فسوں ہے یوں ہے

یوں تو کہنے کو سبھی کہتے ہیں یوں ہے یوں ہے
جیسے کوئی درِ دل پر ہو ستادہ کب سے

ایک سایہ نہ دروں ہے نہ بروں ہے یوں ہے
تم نے دیکھی ہی نہیں دشتِ وفا کی تصویر

نوکِ ہر خار پہ اک قطرۂ خوں ہے یوں ہے
تم محبت میں کہاں سو د و زیاں لے آئے

عشق کا نام خرد ہے نہ جنوں ہے یوں ہے
اب تم آئے ہو مری جان تماشا کرنے

اب تو دریا میں تلاطم نہ سکوں ہے یوں ہے
ناصحا تجھ کو خبر کیا کہ محبت کیا ہے

روز آ جاتا ہے سمجھاتا ہے یوں ہے یوں ہے
شاعری تازہ زمانوں کی ہے معمار فرازؔ

یہ بھی اک سلسلۂ کُن فیکوں ہے یوں ہے

Ishq urdu short ghazal

*عشق کا ناس کرو گی مجھے معلوم نہ تھا*

*میرے پلے ہی پڑو گی مجھے معلوم نہ تھا*
*اک مہینے میں کماتا ہوں جو تنخواہ اسے*

*خرچ ہفتے میں کرو گی مجھے معلوم نہ تھا*
*پتہ ہوتا تو نہ کرتا کبھی کوئی نیکی*

*تمہیں جنت میں ملو گی مجھے معلوم نہ تھا*

Mazahiya ashar in urdu

حجره پڑا ہے سونا اور پیر جی ہیں غائب

حجرے میں کیا ہوا تھا، یہ عرض پھر کروں گا
دولہا دلہن تھے راضی، آیا تھا پھر بھی قاضی

قاضی نے کیا کِیا تھا، یہ عرض پھر کروں گا
عِرق النساء کا نسخہ، مہر النساء نے لکھا

نسخے میں کیا لکھا تھا، یہ عرض پھر کروں گا
شانے پہ جو پڑا تھا، کہنے کو تھا دوپٹہ

کتنا سا تھا دوپٹہ، یہ عرض پھر کروں گا
دونوں تھے روٹھے روٹھے، بیوی میاں ہوں جیسے

دونوں میں کیا تھا رشتہ، یہ عرض پھر کروں گا
لڑکی نے بھی قبولا، لڑکے نے بھی قبولا

دونوں نے کیا قبولا، یہ عرض پھر کروں گا
بے وزن سب تھے مصرعے، شاعر مگر تھا وزنی

شاعر کا وزن کیا تھا، یہ عرض پھر کروں گا

کچھ عرض کر دیا ہے، کچھ عرض پھر کروں گا

پھر عرض کیا کروں گا، یہ عرض پھر کروں گا

Munawwar rana ghazal in urdu

منور رانا صاحب کا مشہور مہاجر نامہ
مہاجر ہے پر ایک دنیا چھوڑ آئے ہے

تمہارے پاس جتنا ہے ہم اتنا چھوڑ آئے ہے ۔۔
کہانی کا یہ حصہ آج تک سب سے چھپایا ہے

کہ ہم مٹی کی خاطر اپنا سونا چھوڑ آئے ہے۔۔
نئی دنیا بسا لینے کی ایک کمزور خواہش میں

پرانے گھر کی دہلیزوں کو سونا چھوڑ آئے ہے ۔۔
ہماری اہلیہ تو آگئی ماں چھوٹ گئی آخر

کہ ہم پیتل اٹھا لائے ہے سونا چھوڑ آئے ہے!!
عقیدت سے کلائی پر جو ایک بچی نے باندھی تھی

وہ راکھی چھوڑ آئے ہے وہ رشتہ چھوڑ آئے ہے!!
یقیں آتا نہیں لگتا ہے کچی نیند میں ہے شائد

ہم اپنا گھر گلی اپنا محلہ چھوڑ آئے ہے ۔۔
ہمیں ہجرت کی اندھیری غفاء میں یاد آتا ہے

اجنٹا چھوڑ آئے ہے ایلورہ چھوڑ آئے ہے۔۔
سبھی تہوار مل جل کر مناتے تھے وہاں جب تھے

دیوالی چھوڑ آئے ہے دسہرا چھوڑ آئے ہے۔۔
کسی کی آنکھ ابھی تک یہ شکایت کرتی ہے ہم سے

کہ ہم بہتے ہوئے کاجل کا دریا چھوڑ آئے ہے۔۔۔
ابھی جب باریشوں میں بھیگتے ہے تو یاد آتا ہے

کے چھپر کے نیچے اپنا چھاتا چھوڑ آئے ہے ۔۔
یہاں آتے ہوئے ہر قیمتی سامان لے آئے

مگر اقبال کا لکھا ترانہ چھوڑ آئے ہے ۔۔
ہمالیے سے نکلتی ہر ندی آواز دیتی تھی

میاں آو وضو کر لو یہ جملہ چھوڑ آئے ہے۔۔۔
وضو کرنے کو جب بھی بیٹھتے ہے یاد آتا ہے

کہ ہم جلدی میں جمونہ کا کنارا چھوڑ آئے ہے۔۔
محرم میں ہمارا لکھنو ایران لگتا تھا

مدد مولی حسین آباد روتا چھوڑ آئے ہے۔۔۔
ہنسی آتی ہے اپنی اداکاری پر خود ہم کو

بنے پھرتے ہے یوسف اور زلیخا چھوڑ آئے ہے۔۔۔
یہ دو کمروں کا گھر یہ سلگتی زندگی اپنی

وہاں اتنا بڑا نوکر کا کمرہ چھوڑ آئے ہے ۔۔۔
ہم ہی غالب سے نادم ہے ہم ہی تلسی سے شرمندہ

ہم ہی نے میر کو چھوڑا ہے میرا چھوڑ آئے ہے۔۔
اگر لکھنے پہ آجائے تو سیاہی ختم ہوجائے

کہ تیرے پاس آئے ہے تو کیا کیا چھوڑ آئے ہے۔۔۔