2 line shayari

2 Lines Urdu Shayari

2 line shayari

  1. مجھے خاک بھی سمجھو تو کوئی بات نہی

یہ بھی اڑتی ہے تو آنکھوں میں سما جاتی
ہے .

mohabbat urdu shayari

ﮨﺰﺍﺭ ﻟﻔﻆ ﺟﻮﮌﻭں____ﮐﺌﯽ ﺻﻔﺤﮯ ﺳﯿﺎﻩ ﮐﺮﻭں۔۔
🇮
ﻟﯿﮑﻦ ﺩﻝ ﮐﯽ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﺭﻩ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﯿں۔۔

Dil Ki Baat Urdu Shayari

*ہزاروں نا مکمل حسرتوں کے بوجھ تلے.!!!*
🇮
*یہ جو دل دھڑکتا ہے ظالم کمال کرتا ہے.!!!*

pyar ka izhar

ترے خاموش ہونٹوں کی ہو چاہے کچھ بھی مجبوری——–

تری آنکھیں تو کہتی ہیں تجھے مجھ سے محبت ہے—-

Dard Bhari Shayari urdu

اپنوں کی محبت میں ملاوٹ تھی اس قدر

میں تنگ آ کر دشمن کو منانے چلا گیا ۔۔۔

dosti shayari in urdu

dosti shayari in urdu – kinaron-par-sagar-ke

dosti shayari in urdu

کناروں پہ ساگر کے خزانے نہیں آتے

پھر جیون میں دوست پُرانے نہیں آتے

جی لو ان پلو کو ہنس کے جناب

پھر لوٹ کے دوستی کے زمانے نہیں آتے

Top Urdu Ghazal

Top Urdu Ghazal – Mujhe door Sawera dikhai padta hai

Top Urdu Ghazal

افق اگرچہ پگھلتا دکھائی پڑتا ہے

 مجھے تو دُور سویرا دکھائی پڑتا ہے
ہمارے شہر میں بے چہرہ لوگ بستے ہیں

 کبھی کبھی کوئی چہرہ دکھائی پڑتا ہے
چلو کہ اپنی محبت سبھی کو بانٹ آئیں

 ہر ایک پیار کا بھوکا دکھائی پڑتا ہے
جو اپنی ذات سے اک انجمن کہا جائے

 وہ شخص تک مجھے تنہا دکھائی پڑتا ہے
نہ کوئی خواب، نہ کوئی خلش، نہ کوئی خمار

 یہ آدمی تو ادھورا دکھائی پڑتا ہے
لچک رہی ہیں شعاعوں کی سیڑھیاں پیہم

 فلک سے کوئی اترتا دکھائی پڑتا ہے
چمکتی ریت پہ یہ غسلِ آفتاب ترا

بدن تمام سنہرا دکھائی پڑتا ہے
طلحہ عزیر پاکیزہ اورنگ آبادی

Allama Iqbal shayari

Allama Iqbal shayari – na wo ishq me rahe garmiya’n

Allama Iqbal shayari

کبھی اے حقیقت منتظر، نظر آ لباسِ مجاز میں

کہ ہزاروں سجدے تڑپ رہے ہیں مری جبینِ نیاز میں

تو بچا بچا کہ نہ رکھ اسے ، ترا آئینہ ہے وہ آئینہ

جو شکستہ ہو تو عزیز تر ہے نگاہِ آئینہ ساز میں

نہ وہ عشق میں رہیں گرمیاں، نہ وہ حسن میں رہیں شوخیاں

نہ وہ غزنوی میں تڑپ رہی، نہ وہ خم ہے زلفِ ایاز میں

جو میں سربسجدہ ہوا کبھی ، تو زمیں سے آنے لگی صدا

تیرا دل تو ہے صنم آشنا، تجھے کیا ملے گا نماز میں

علامہ اقبال

Urdu Ghazals

Urdu Ghazals – suna hai log use ankh bhar ke dekhte hai

Urdu Ghazals(Faraz Sahab)

سنا ہے لوگ اُسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں

تو اس کے شہر میں‌ کچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے ربط ہے اس کو خراب حالوں سے

سو اپنے آپ کو برباد کر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے درد کی گاہک ہے چشمِ ناز اس کی

سو ہم بھی اس کی گلی سے گزر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے اس کو بھی ہے شعروشاعری سے شغف

تو ہم بھی معجزے اپنے ہنر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں

یہ بات ہے تو چلو بات کر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے رات اسے چاند تکتا رہتا ہے

ستارے بام فلک سے اتر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے دن کو اسے تتلیاں ستاتی ہیں

سنا ہے رات کو جگنو ٹھہر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے حشر ہیں‌ اس کی غزال سی آنکھیں

سنا ہے اس کو ہرن دشت بھر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے رات سے بڑھ کر ہیں‌ کاکلیں اس کی

سنا ہے شام کو سائے گزر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے اس کی سیاہ چشمگی قیامت ہے

سو اس کو سرمہ فروش آہ بھر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے جب سے حمائل ہیں اس کی گردن میں

مزاج اور ہی لعل و گوہر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے اس کے بدن کی تراش ایسی ہے

کہ پھول اپنی قبائیں کتر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے اس کے لبوں سے گلاب جلتے ہیں

سو ہم بہار پہ الزام دھر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے آئینہ تمثال ہے جبیں اس کی

جو سادہ دل ہیں‌ اسے بن سنور کے دیکھتے ہیں
سنا ہے چشمِ تصور سے دشتِ امکاں میں

پلنگ زاویے اس کی کمر کے دیکھتے ہیں
وہ سرو قد ہے مگر بے گل مراد نہیں

کہ اس شجر پہ شگوفے ثمر کے دیکھتے ہیں
بس اک نگاہ سے لوٹا ہے قافلہ دل کا

سو رہ روان تمنا بھی ڈر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے اس کے شبستاں سے متُّصل ہے بہشت

مکیں‌ اُدھر کے بھی جلوے اِدھر کے دیکھتے ہیں
کسے نصیب کہ بے پیرہن اسے دیکھے

کبھی کبھی در و دیوار گھر کے دیکھتے ہیں
رکے تو گردشیں اس کا طواف کرتی ہیں

چلے تو اس کو زمانے ٹھہر کے دیکھتے ہیں
کہانیاں ہی سہی ، سب مبالغے ہی سہی

اگریہ  خواب ہے تعبیر کر کے دیکھتے ہیں
اب اس کے شہر میں‌ٹھہریں کہ کوچ کر جائیں

فراز آؤ ستارے سفر کے دیکھتے ہے

dard bhari shayari

Dard bhari shayari – pyar ka badal new shayari

dard bhari shayari

​حیا آنکھوں میں سر پر پیار کا بادل نہیں ہوتا 

بہت شرمندگی ہوتی ہے جب آنچل نہیں ہوتا

میری آنکھوں میں تم احساس کی تحریر مت ڈھونڈ ڈھو

نکل آتے ہیں جب آنسوں تو پھر کاجل نہیں ہوتا