Ishq urdu short ghazal

*عشق کا ناس کرو گی مجھے معلوم نہ تھا*

*میرے پلے ہی پڑو گی مجھے معلوم نہ تھا*
*اک مہینے میں کماتا ہوں جو تنخواہ اسے*

*خرچ ہفتے میں کرو گی مجھے معلوم نہ تھا*
*پتہ ہوتا تو نہ کرتا کبھی کوئی نیکی*

*تمہیں جنت میں ملو گی مجھے معلوم نہ تھا*

Mazahiya ashar in urdu

حجره پڑا ہے سونا اور پیر جی ہیں غائب

حجرے میں کیا ہوا تھا، یہ عرض پھر کروں گا
دولہا دلہن تھے راضی، آیا تھا پھر بھی قاضی

قاضی نے کیا کِیا تھا، یہ عرض پھر کروں گا
عِرق النساء کا نسخہ، مہر النساء نے لکھا

نسخے میں کیا لکھا تھا، یہ عرض پھر کروں گا
شانے پہ جو پڑا تھا، کہنے کو تھا دوپٹہ

کتنا سا تھا دوپٹہ، یہ عرض پھر کروں گا
دونوں تھے روٹھے روٹھے، بیوی میاں ہوں جیسے

دونوں میں کیا تھا رشتہ، یہ عرض پھر کروں گا
لڑکی نے بھی قبولا، لڑکے نے بھی قبولا

دونوں نے کیا قبولا، یہ عرض پھر کروں گا
بے وزن سب تھے مصرعے، شاعر مگر تھا وزنی

شاعر کا وزن کیا تھا، یہ عرض پھر کروں گا

کچھ عرض کر دیا ہے، کچھ عرض پھر کروں گا

پھر عرض کیا کروں گا، یہ عرض پھر کروں گا

Munawwar rana ghazal in urdu

منور رانا صاحب کا مشہور مہاجر نامہ
مہاجر ہے پر ایک دنیا چھوڑ آئے ہے

تمہارے پاس جتنا ہے ہم اتنا چھوڑ آئے ہے ۔۔
کہانی کا یہ حصہ آج تک سب سے چھپایا ہے

کہ ہم مٹی کی خاطر اپنا سونا چھوڑ آئے ہے۔۔
نئی دنیا بسا لینے کی ایک کمزور خواہش میں

پرانے گھر کی دہلیزوں کو سونا چھوڑ آئے ہے ۔۔
ہماری اہلیہ تو آگئی ماں چھوٹ گئی آخر

کہ ہم پیتل اٹھا لائے ہے سونا چھوڑ آئے ہے!!
عقیدت سے کلائی پر جو ایک بچی نے باندھی تھی

وہ راکھی چھوڑ آئے ہے وہ رشتہ چھوڑ آئے ہے!!
یقیں آتا نہیں لگتا ہے کچی نیند میں ہے شائد

ہم اپنا گھر گلی اپنا محلہ چھوڑ آئے ہے ۔۔
ہمیں ہجرت کی اندھیری غفاء میں یاد آتا ہے

اجنٹا چھوڑ آئے ہے ایلورہ چھوڑ آئے ہے۔۔
سبھی تہوار مل جل کر مناتے تھے وہاں جب تھے

دیوالی چھوڑ آئے ہے دسہرا چھوڑ آئے ہے۔۔
کسی کی آنکھ ابھی تک یہ شکایت کرتی ہے ہم سے

کہ ہم بہتے ہوئے کاجل کا دریا چھوڑ آئے ہے۔۔۔
ابھی جب باریشوں میں بھیگتے ہے تو یاد آتا ہے

کے چھپر کے نیچے اپنا چھاتا چھوڑ آئے ہے ۔۔
یہاں آتے ہوئے ہر قیمتی سامان لے آئے

مگر اقبال کا لکھا ترانہ چھوڑ آئے ہے ۔۔
ہمالیے سے نکلتی ہر ندی آواز دیتی تھی

میاں آو وضو کر لو یہ جملہ چھوڑ آئے ہے۔۔۔
وضو کرنے کو جب بھی بیٹھتے ہے یاد آتا ہے

کہ ہم جلدی میں جمونہ کا کنارا چھوڑ آئے ہے۔۔
محرم میں ہمارا لکھنو ایران لگتا تھا

مدد مولی حسین آباد روتا چھوڑ آئے ہے۔۔۔
ہنسی آتی ہے اپنی اداکاری پر خود ہم کو

بنے پھرتے ہے یوسف اور زلیخا چھوڑ آئے ہے۔۔۔
یہ دو کمروں کا گھر یہ سلگتی زندگی اپنی

وہاں اتنا بڑا نوکر کا کمرہ چھوڑ آئے ہے ۔۔۔
ہم ہی غالب سے نادم ہے ہم ہی تلسی سے شرمندہ

ہم ہی نے میر کو چھوڑا ہے میرا چھوڑ آئے ہے۔۔
اگر لکھنے پہ آجائے تو سیاہی ختم ہوجائے

کہ تیرے پاس آئے ہے تو کیا کیا چھوڑ آئے ہے۔۔۔

Muskurahat poetry in urdu

*دبی دبی سی وہ مسکراہٹ…*

*لبوں پہ اپنے سجا سجا کے …*

*وہ نرم لہجے میں بات کرنا …*

*ادا سے نظریں جھکا جھکا کے…*
*وہ آنکھ تیری شرارتی سی…*

*وہ زلف ماتھے پہ ناچتی سی…*

*نظر ہٹے نہ ایک پل بھی …*

*میں تھک گیا ھوں ہٹا ہٹا کے…*
*وہ تیرا ہاتھوں کی انگلیوں کو…*

*ملا کے زلفوں میں کھو سا جانا…*

*حیاء کو چہرے پہ پھر سجانا…*

*پھول سا چہرہ کھلا کھلا کے …*
*وہ ہاتھ حوروں کےگھر ھوں جیسے…*

*وہ پاؤں پریوں کے پر ہوں جیسے…*

*نہیں ھے تیری مثال جاناں….میں تھک گیا ھوں بتا بتا کے …..!!*

Mohabbat poetry in urdu

محبت مہربان ہو گی

پریشان تم نہیں ہونا

کبھی چھپ کر نہیں رونا

جدائی زہر ہوتی ہے

مجھے معلوم ہے لیکن

فراق و ہجر کا موسم

یقینا بیت جائے گا

یقینا وصل کے لمحے

دوبارہ لوٹ آئیں گے

وہی شامیں

وہی راتیں

وہی قصے

وہی باتیں

وہی پھر داستاں ہوگی

محبت مہربان ہوگی…!!

hindi qoute

​Woh Samnee Aaye

Woh Samnee Aayee To Nazroon Ko Jhukaa Lon Ga

Dekhon Ga Nahee Phir Bhi Tasveer Bana Loon Ga
Aana Hai To Aajao Ruswayee Nahee Ho Giii

Dekhee Ga Nahee Koi Palkon Men Chupaa Lon Ga
Jo Hum Per Guzarni Hai Aik Baar Guzer Jayeee

Her Ghum Ki Tarha Tujh Ko Seene Se Laga Loon Ga

Maa poetry in hindi

लेती नहीं दवाई “माँ”,

जोड़े पाई-पाई “माँ”।
दुःख थे पर्वत, राई “माँ”,

हारी नहीं लड़ाई “माँ”।
इस दुनियां में सब मैले हैं,

किस दुनियां से आई “माँ”।
दुनिया के सब रिश्ते ठंडे,

गरमागर्म रजाई “माँ” ।
जब भी कोई रिश्ता उधड़े,

करती है तुरपाई “माँ” ।
बाबू जी तनख़ा लाये बस,

लेकिन बरक़त लाई “माँ”।
बाबूजी थे सख्त मगर ,

माखन और मलाई “माँ”।
बाबूजी के पाँव दबा कर

सब तीरथ हो आई “माँ”।
नाम सभी हैं गुड़ से मीठे,

मां जी, मैया, माई, “माँ” ।
सभी साड़ियाँ छीज गई थीं,

मगर नहीं कह पाई “माँ” ।
घर में चूल्हे मत बाँटो रे,

देती रही दुहाई “माँ”।
बाबूजी बीमार पड़े जब,

साथ-साथ मुरझाई “माँ” ।
रोती है लेकिन छुप-छुप कर,

बड़े सब्र की जाई “माँ”।
लड़ते-लड़ते, सहते-सहते,

रह गई एक तिहाई “माँ” ।
बेटी रहे ससुराल में खुश,

सब ज़ेवर दे आई “माँ”।
“माँ” से घर, घर लगता है,

घर में घुली, समाई “माँ” ।
बेटे की कुर्सी है ऊँची,

पर उसकी ऊँचाई “माँ” ।
दर्द बड़ा हो या छोटा हो,

याद हमेशा आई “माँ”।
घर के शगुन सभी “माँ” से,

है घर की शहनाई “माँ”।
सभी पराये हो जाते हैं,

होती नहीं पराईll मां

Mohabbat 4 line urdu shayari 

بچھڑ کر بھی محبت کے زمانے یاد رہتے ہیں

اجڑ جاتی ہے محفل اور چہرے یاد رہتے ہیں

شگفتہ لوگ بھی ٹوٹے ہوئے ہوتے ہیں اندر سے

بہت روتے ہیں یہ، جن کو لطیفے یاد رہتے ہیں