Allama Iqbal shayari

Allama Iqbal shayari – na wo ishq me rahe garmiya’n

Allama Iqbal shayari

کبھی اے حقیقت منتظر، نظر آ لباسِ مجاز میں

کہ ہزاروں سجدے تڑپ رہے ہیں مری جبینِ نیاز میں

تو بچا بچا کہ نہ رکھ اسے ، ترا آئینہ ہے وہ آئینہ

جو شکستہ ہو تو عزیز تر ہے نگاہِ آئینہ ساز میں

نہ وہ عشق میں رہیں گرمیاں، نہ وہ حسن میں رہیں شوخیاں

نہ وہ غزنوی میں تڑپ رہی، نہ وہ خم ہے زلفِ ایاز میں

جو میں سربسجدہ ہوا کبھی ، تو زمیں سے آنے لگی صدا

تیرا دل تو ہے صنم آشنا، تجھے کیا ملے گا نماز میں

علامہ اقبال

Urdu Ghazals

Urdu Ghazals – suna hai log use ankh bhar ke dekhte hai

Urdu Ghazals(Faraz Sahab)

سنا ہے لوگ اُسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں

تو اس کے شہر میں‌ کچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے ربط ہے اس کو خراب حالوں سے

سو اپنے آپ کو برباد کر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے درد کی گاہک ہے چشمِ ناز اس کی

سو ہم بھی اس کی گلی سے گزر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے اس کو بھی ہے شعروشاعری سے شغف

تو ہم بھی معجزے اپنے ہنر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں

یہ بات ہے تو چلو بات کر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے رات اسے چاند تکتا رہتا ہے

ستارے بام فلک سے اتر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے دن کو اسے تتلیاں ستاتی ہیں

سنا ہے رات کو جگنو ٹھہر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے حشر ہیں‌ اس کی غزال سی آنکھیں

سنا ہے اس کو ہرن دشت بھر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے رات سے بڑھ کر ہیں‌ کاکلیں اس کی

سنا ہے شام کو سائے گزر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے اس کی سیاہ چشمگی قیامت ہے

سو اس کو سرمہ فروش آہ بھر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے جب سے حمائل ہیں اس کی گردن میں

مزاج اور ہی لعل و گوہر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے اس کے بدن کی تراش ایسی ہے

کہ پھول اپنی قبائیں کتر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے اس کے لبوں سے گلاب جلتے ہیں

سو ہم بہار پہ الزام دھر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے آئینہ تمثال ہے جبیں اس کی

جو سادہ دل ہیں‌ اسے بن سنور کے دیکھتے ہیں
سنا ہے چشمِ تصور سے دشتِ امکاں میں

پلنگ زاویے اس کی کمر کے دیکھتے ہیں
وہ سرو قد ہے مگر بے گل مراد نہیں

کہ اس شجر پہ شگوفے ثمر کے دیکھتے ہیں
بس اک نگاہ سے لوٹا ہے قافلہ دل کا

سو رہ روان تمنا بھی ڈر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے اس کے شبستاں سے متُّصل ہے بہشت

مکیں‌ اُدھر کے بھی جلوے اِدھر کے دیکھتے ہیں
کسے نصیب کہ بے پیرہن اسے دیکھے

کبھی کبھی در و دیوار گھر کے دیکھتے ہیں
رکے تو گردشیں اس کا طواف کرتی ہیں

چلے تو اس کو زمانے ٹھہر کے دیکھتے ہیں
کہانیاں ہی سہی ، سب مبالغے ہی سہی

اگریہ  خواب ہے تعبیر کر کے دیکھتے ہیں
اب اس کے شہر میں‌ٹھہریں کہ کوچ کر جائیں

فراز آؤ ستارے سفر کے دیکھتے ہے

Ishq urdu short ghazal

*عشق کا ناس کرو گی مجھے معلوم نہ تھا*

*میرے پلے ہی پڑو گی مجھے معلوم نہ تھا*
*اک مہینے میں کماتا ہوں جو تنخواہ اسے*

*خرچ ہفتے میں کرو گی مجھے معلوم نہ تھا*
*پتہ ہوتا تو نہ کرتا کبھی کوئی نیکی*

*تمہیں جنت میں ملو گی مجھے معلوم نہ تھا*

Mazahiya ashar in urdu

حجره پڑا ہے سونا اور پیر جی ہیں غائب

حجرے میں کیا ہوا تھا، یہ عرض پھر کروں گا
دولہا دلہن تھے راضی، آیا تھا پھر بھی قاضی

قاضی نے کیا کِیا تھا، یہ عرض پھر کروں گا
عِرق النساء کا نسخہ، مہر النساء نے لکھا

نسخے میں کیا لکھا تھا، یہ عرض پھر کروں گا
شانے پہ جو پڑا تھا، کہنے کو تھا دوپٹہ

کتنا سا تھا دوپٹہ، یہ عرض پھر کروں گا
دونوں تھے روٹھے روٹھے، بیوی میاں ہوں جیسے

دونوں میں کیا تھا رشتہ، یہ عرض پھر کروں گا
لڑکی نے بھی قبولا، لڑکے نے بھی قبولا

دونوں نے کیا قبولا، یہ عرض پھر کروں گا
بے وزن سب تھے مصرعے، شاعر مگر تھا وزنی

شاعر کا وزن کیا تھا، یہ عرض پھر کروں گا

کچھ عرض کر دیا ہے، کچھ عرض پھر کروں گا

پھر عرض کیا کروں گا، یہ عرض پھر کروں گا

Muskurahat poetry in urdu

*دبی دبی سی وہ مسکراہٹ…*

*لبوں پہ اپنے سجا سجا کے …*

*وہ نرم لہجے میں بات کرنا …*

*ادا سے نظریں جھکا جھکا کے…*
*وہ آنکھ تیری شرارتی سی…*

*وہ زلف ماتھے پہ ناچتی سی…*

*نظر ہٹے نہ ایک پل بھی …*

*میں تھک گیا ھوں ہٹا ہٹا کے…*
*وہ تیرا ہاتھوں کی انگلیوں کو…*

*ملا کے زلفوں میں کھو سا جانا…*

*حیاء کو چہرے پہ پھر سجانا…*

*پھول سا چہرہ کھلا کھلا کے …*
*وہ ہاتھ حوروں کےگھر ھوں جیسے…*

*وہ پاؤں پریوں کے پر ہوں جیسے…*

*نہیں ھے تیری مثال جاناں….میں تھک گیا ھوں بتا بتا کے …..!!*

hindi qoute

​Woh Samnee Aaye

Woh Samnee Aayee To Nazroon Ko Jhukaa Lon Ga

Dekhon Ga Nahee Phir Bhi Tasveer Bana Loon Ga
Aana Hai To Aajao Ruswayee Nahee Ho Giii

Dekhee Ga Nahee Koi Palkon Men Chupaa Lon Ga
Jo Hum Per Guzarni Hai Aik Baar Guzer Jayeee

Her Ghum Ki Tarha Tujh Ko Seene Se Laga Loon Ga

Maa poetry in hindi

लेती नहीं दवाई “माँ”,

जोड़े पाई-पाई “माँ”।
दुःख थे पर्वत, राई “माँ”,

हारी नहीं लड़ाई “माँ”।
इस दुनियां में सब मैले हैं,

किस दुनियां से आई “माँ”।
दुनिया के सब रिश्ते ठंडे,

गरमागर्म रजाई “माँ” ।
जब भी कोई रिश्ता उधड़े,

करती है तुरपाई “माँ” ।
बाबू जी तनख़ा लाये बस,

लेकिन बरक़त लाई “माँ”।
बाबूजी थे सख्त मगर ,

माखन और मलाई “माँ”।
बाबूजी के पाँव दबा कर

सब तीरथ हो आई “माँ”।
नाम सभी हैं गुड़ से मीठे,

मां जी, मैया, माई, “माँ” ।
सभी साड़ियाँ छीज गई थीं,

मगर नहीं कह पाई “माँ” ।
घर में चूल्हे मत बाँटो रे,

देती रही दुहाई “माँ”।
बाबूजी बीमार पड़े जब,

साथ-साथ मुरझाई “माँ” ।
रोती है लेकिन छुप-छुप कर,

बड़े सब्र की जाई “माँ”।
लड़ते-लड़ते, सहते-सहते,

रह गई एक तिहाई “माँ” ।
बेटी रहे ससुराल में खुश,

सब ज़ेवर दे आई “माँ”।
“माँ” से घर, घर लगता है,

घर में घुली, समाई “माँ” ।
बेटे की कुर्सी है ऊँची,

पर उसकी ऊँचाई “माँ” ।
दर्द बड़ा हो या छोटा हो,

याद हमेशा आई “माँ”।
घर के शगुन सभी “माँ” से,

है घर की शहनाई “माँ”।
सभी पराये हो जाते हैं,

होती नहीं पराईll मां