Top Urdu Ghazal

Top Urdu Ghazal – Mujhe door Sawera dikhai padta hai

Top Urdu Ghazal

افق اگرچہ پگھلتا دکھائی پڑتا ہے

 مجھے تو دُور سویرا دکھائی پڑتا ہے
ہمارے شہر میں بے چہرہ لوگ بستے ہیں

 کبھی کبھی کوئی چہرہ دکھائی پڑتا ہے
چلو کہ اپنی محبت سبھی کو بانٹ آئیں

 ہر ایک پیار کا بھوکا دکھائی پڑتا ہے
جو اپنی ذات سے اک انجمن کہا جائے

 وہ شخص تک مجھے تنہا دکھائی پڑتا ہے
نہ کوئی خواب، نہ کوئی خلش، نہ کوئی خمار

 یہ آدمی تو ادھورا دکھائی پڑتا ہے
لچک رہی ہیں شعاعوں کی سیڑھیاں پیہم

 فلک سے کوئی اترتا دکھائی پڑتا ہے
چمکتی ریت پہ یہ غسلِ آفتاب ترا

بدن تمام سنہرا دکھائی پڑتا ہے
طلحہ عزیر پاکیزہ اورنگ آبادی