Munawwar rana ghazals in urdu poetry 

Munawwar rana ghazals in urdu poetry 

munawwar rana  ghazals in urdu poetry 


Munawwar rana ghazals

Ab faqt shor machane se kuch nahi hoga

Sirf honto ko hilane se kuch nahi hoga



Zindagi ke liye be gairti maut q marte ho

Ahl e iman ho to shaitan se darte q ho



Tum b mahfooz kaha apne thikane par ho

Baad ikhlaq tum hi log Nishane par ho



Ab agar ek na ho pai to mit jao ge

Khushk patto’n ki tarah tum b bikhar jaoge



Khud ko pahchano ke tum log wafa wale ho

Mustufa wale momin ho khuda wale ho



Kufr dam tod de tuti hui shamshir ke sath

Tum nikal aao agar nara e takbeer ke sath



Apne islam ki tarikh palat kar dekho

Apna guzra har daor palat kar dekho



Tum pahado’n ka jigar chaak kiya karte the

Tum daryao’n ka rukh mod dia karte the



Tumne khaibar ko ukhada kya tumhe yad nahi

Tumne batil ko pichada kya tumhe yad 


nahi
Firqe rahte the shab o roz baya bano me

Zindagi kat dia karte the maidano me



Rah kar mahlo’n me har ayat ka haq bhool gaye

Ayeh o ishrat me payambar ka sabaq bhool gaye

اب فقط شور مچانے سے کچھ نہیں ہوگا
صرف ہونٹوں کو ہلانے سے کچھ نہیں ہوگا

زندگی کے لیۓ بےغيرتی موت ہی مرتے کیوں ہو
اہل ایمان ہو تو شیطان سے ڈرتے کیوں ہو

تم بھی محفوظ کہاں اپنے ٹھکانے پر ہو
بعد اخلاق تم ہی لوگ نشانےپر ہو

اب اگر ایک نہ ہو پاۓ تو مٹ جاٶگے
خشک پتوں کی طرح تم بھی بکھر جاٶگے

خدکوپہچانوں کےتم لوگ وفا والے ہو
مصطفٰےوالے ہو مٶمن ہو خدا والے ہو

کفر دم توڑدے ٹوٹی ہوئی شمشیر کے ساتھ
تم نکل آٶ اگر نعرہ تکبیر کے ساتھ

اپنے اسلام کی تاریخی پلٹ کر دیکھو
اپنا گزرا ہر دور پلٹ کر دیکھو

تم پہاڑوں کا جگر چاک کیا کرتےتھے
تم تو دریاٶں کا رخ موڑ دیا کرتےتھے

تمنے خیبر کو اکھاڑا کیاتمہیں یاد نہیں
تمنے باطل کوپچھاڑا کیاتمہیں یاد نہیں

اب اگر ایک نہ ہو پاۓ تو مٹ جاٶگے
خشک پتوں کی طرح تم بھی بکھر جاٶگے

خدکوپہچانوں کےتم لوگ وفا والے ہو
مصطفٰےوالے ہو مٶمن ہو خدا والے ہو

کفر دم توڑدے ٹوٹی ہوئی شمشیر کے ساتھ
تم نکل آٶ اگر نعرہ تکبیر کے ساتھ

فرتے رہتے تھے شب و روز بیابانو میں
زندگی کاٹ دیا کرتےتھے میدانوں میں

رہ کر محلوں میں ہر آیات کاحق بھول گۓ

عیش و عشرت میں پیمبر کاسبق بھول گۓ

Top Urdu Ghazal

Top Urdu Ghazal – Mujhe door Sawera dikhai padta hai

Top Urdu Ghazal

افق اگرچہ پگھلتا دکھائی پڑتا ہے

 مجھے تو دُور سویرا دکھائی پڑتا ہے
ہمارے شہر میں بے چہرہ لوگ بستے ہیں

 کبھی کبھی کوئی چہرہ دکھائی پڑتا ہے
چلو کہ اپنی محبت سبھی کو بانٹ آئیں

 ہر ایک پیار کا بھوکا دکھائی پڑتا ہے
جو اپنی ذات سے اک انجمن کہا جائے

 وہ شخص تک مجھے تنہا دکھائی پڑتا ہے
نہ کوئی خواب، نہ کوئی خلش، نہ کوئی خمار

 یہ آدمی تو ادھورا دکھائی پڑتا ہے
لچک رہی ہیں شعاعوں کی سیڑھیاں پیہم

 فلک سے کوئی اترتا دکھائی پڑتا ہے
چمکتی ریت پہ یہ غسلِ آفتاب ترا

بدن تمام سنہرا دکھائی پڑتا ہے
طلحہ عزیر پاکیزہ اورنگ آبادی

Allama Iqbal shayari

Allama Iqbal shayari – na wo ishq me rahe garmiya’n

Allama Iqbal shayari

کبھی اے حقیقت منتظر، نظر آ لباسِ مجاز میں

کہ ہزاروں سجدے تڑپ رہے ہیں مری جبینِ نیاز میں

تو بچا بچا کہ نہ رکھ اسے ، ترا آئینہ ہے وہ آئینہ

جو شکستہ ہو تو عزیز تر ہے نگاہِ آئینہ ساز میں

نہ وہ عشق میں رہیں گرمیاں، نہ وہ حسن میں رہیں شوخیاں

نہ وہ غزنوی میں تڑپ رہی، نہ وہ خم ہے زلفِ ایاز میں

جو میں سربسجدہ ہوا کبھی ، تو زمیں سے آنے لگی صدا

تیرا دل تو ہے صنم آشنا، تجھے کیا ملے گا نماز میں

علامہ اقبال

Urdu Ghazals

Urdu Ghazals – suna hai log use ankh bhar ke dekhte hai

Urdu Ghazals(Faraz Sahab)

سنا ہے لوگ اُسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں

تو اس کے شہر میں‌ کچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے ربط ہے اس کو خراب حالوں سے

سو اپنے آپ کو برباد کر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے درد کی گاہک ہے چشمِ ناز اس کی

سو ہم بھی اس کی گلی سے گزر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے اس کو بھی ہے شعروشاعری سے شغف

تو ہم بھی معجزے اپنے ہنر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں

یہ بات ہے تو چلو بات کر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے رات اسے چاند تکتا رہتا ہے

ستارے بام فلک سے اتر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے دن کو اسے تتلیاں ستاتی ہیں

سنا ہے رات کو جگنو ٹھہر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے حشر ہیں‌ اس کی غزال سی آنکھیں

سنا ہے اس کو ہرن دشت بھر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے رات سے بڑھ کر ہیں‌ کاکلیں اس کی

سنا ہے شام کو سائے گزر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے اس کی سیاہ چشمگی قیامت ہے

سو اس کو سرمہ فروش آہ بھر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے جب سے حمائل ہیں اس کی گردن میں

مزاج اور ہی لعل و گوہر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے اس کے بدن کی تراش ایسی ہے

کہ پھول اپنی قبائیں کتر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے اس کے لبوں سے گلاب جلتے ہیں

سو ہم بہار پہ الزام دھر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے آئینہ تمثال ہے جبیں اس کی

جو سادہ دل ہیں‌ اسے بن سنور کے دیکھتے ہیں
سنا ہے چشمِ تصور سے دشتِ امکاں میں

پلنگ زاویے اس کی کمر کے دیکھتے ہیں
وہ سرو قد ہے مگر بے گل مراد نہیں

کہ اس شجر پہ شگوفے ثمر کے دیکھتے ہیں
بس اک نگاہ سے لوٹا ہے قافلہ دل کا

سو رہ روان تمنا بھی ڈر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے اس کے شبستاں سے متُّصل ہے بہشت

مکیں‌ اُدھر کے بھی جلوے اِدھر کے دیکھتے ہیں
کسے نصیب کہ بے پیرہن اسے دیکھے

کبھی کبھی در و دیوار گھر کے دیکھتے ہیں
رکے تو گردشیں اس کا طواف کرتی ہیں

چلے تو اس کو زمانے ٹھہر کے دیکھتے ہیں
کہانیاں ہی سہی ، سب مبالغے ہی سہی

اگریہ  خواب ہے تعبیر کر کے دیکھتے ہیں
اب اس کے شہر میں‌ٹھہریں کہ کوچ کر جائیں

فراز آؤ ستارے سفر کے دیکھتے ہے

Faraz author poetry in urdu

یہ تو اُسکا ہی کرشمہ ہے فسوں ہے یوں ہے

یوں تو کہنے کو سبھی کہتے ہیں یوں ہے یوں ہے
جیسے کوئی درِ دل پر ہو ستادہ کب سے

ایک سایہ نہ دروں ہے نہ بروں ہے یوں ہے
تم نے دیکھی ہی نہیں دشتِ وفا کی تصویر

نوکِ ہر خار پہ اک قطرۂ خوں ہے یوں ہے
تم محبت میں کہاں سو د و زیاں لے آئے

عشق کا نام خرد ہے نہ جنوں ہے یوں ہے
اب تم آئے ہو مری جان تماشا کرنے

اب تو دریا میں تلاطم نہ سکوں ہے یوں ہے
ناصحا تجھ کو خبر کیا کہ محبت کیا ہے

روز آ جاتا ہے سمجھاتا ہے یوں ہے یوں ہے
شاعری تازہ زمانوں کی ہے معمار فرازؔ

یہ بھی اک سلسلۂ کُن فیکوں ہے یوں ہے

Munawwar rana ghazal in urdu

منور رانا صاحب کا مشہور مہاجر نامہ
مہاجر ہے پر ایک دنیا چھوڑ آئے ہے

تمہارے پاس جتنا ہے ہم اتنا چھوڑ آئے ہے ۔۔
کہانی کا یہ حصہ آج تک سب سے چھپایا ہے

کہ ہم مٹی کی خاطر اپنا سونا چھوڑ آئے ہے۔۔
نئی دنیا بسا لینے کی ایک کمزور خواہش میں

پرانے گھر کی دہلیزوں کو سونا چھوڑ آئے ہے ۔۔
ہماری اہلیہ تو آگئی ماں چھوٹ گئی آخر

کہ ہم پیتل اٹھا لائے ہے سونا چھوڑ آئے ہے!!
عقیدت سے کلائی پر جو ایک بچی نے باندھی تھی

وہ راکھی چھوڑ آئے ہے وہ رشتہ چھوڑ آئے ہے!!
یقیں آتا نہیں لگتا ہے کچی نیند میں ہے شائد

ہم اپنا گھر گلی اپنا محلہ چھوڑ آئے ہے ۔۔
ہمیں ہجرت کی اندھیری غفاء میں یاد آتا ہے

اجنٹا چھوڑ آئے ہے ایلورہ چھوڑ آئے ہے۔۔
سبھی تہوار مل جل کر مناتے تھے وہاں جب تھے

دیوالی چھوڑ آئے ہے دسہرا چھوڑ آئے ہے۔۔
کسی کی آنکھ ابھی تک یہ شکایت کرتی ہے ہم سے

کہ ہم بہتے ہوئے کاجل کا دریا چھوڑ آئے ہے۔۔۔
ابھی جب باریشوں میں بھیگتے ہے تو یاد آتا ہے

کے چھپر کے نیچے اپنا چھاتا چھوڑ آئے ہے ۔۔
یہاں آتے ہوئے ہر قیمتی سامان لے آئے

مگر اقبال کا لکھا ترانہ چھوڑ آئے ہے ۔۔
ہمالیے سے نکلتی ہر ندی آواز دیتی تھی

میاں آو وضو کر لو یہ جملہ چھوڑ آئے ہے۔۔۔
وضو کرنے کو جب بھی بیٹھتے ہے یاد آتا ہے

کہ ہم جلدی میں جمونہ کا کنارا چھوڑ آئے ہے۔۔
محرم میں ہمارا لکھنو ایران لگتا تھا

مدد مولی حسین آباد روتا چھوڑ آئے ہے۔۔۔
ہنسی آتی ہے اپنی اداکاری پر خود ہم کو

بنے پھرتے ہے یوسف اور زلیخا چھوڑ آئے ہے۔۔۔
یہ دو کمروں کا گھر یہ سلگتی زندگی اپنی

وہاں اتنا بڑا نوکر کا کمرہ چھوڑ آئے ہے ۔۔۔
ہم ہی غالب سے نادم ہے ہم ہی تلسی سے شرمندہ

ہم ہی نے میر کو چھوڑا ہے میرا چھوڑ آئے ہے۔۔
اگر لکھنے پہ آجائے تو سیاہی ختم ہوجائے

کہ تیرے پاس آئے ہے تو کیا کیا چھوڑ آئے ہے۔۔۔

Hal e dil shayari in urdu

بیٹھے بیٹھائے حال دل زار کھول گیا

میں آج اس کے سامنے بیکار کھول گیا

مٹی میں کیوں ملاتے ہو محنت رفو گروں

اب تو لباس جسم کا ہر تار کھول گیا

کاسے کی ایک دوکان پر لوگوں کی بھیڑ تھی

ہے کون کتنا شھر میں خودار کھول گیا

دشوار کام تھا تیرے غم کو سمیٹنا

میں خود کو باندھنے میں کئی بار کھول گیا

منور رانا

Nafarat shayari 2 line by faraz

ایک نفرت ہی نہی دنیا میں درد کا سبب فراز

محبت بھی سکوں والوں کو بڑی تکلیف دیتی ہے