Munawwar rana ghazal in urdu

منور رانا صاحب کا مشہور مہاجر نامہ
مہاجر ہے پر ایک دنیا چھوڑ آئے ہے

تمہارے پاس جتنا ہے ہم اتنا چھوڑ آئے ہے ۔۔
کہانی کا یہ حصہ آج تک سب سے چھپایا ہے

کہ ہم مٹی کی خاطر اپنا سونا چھوڑ آئے ہے۔۔
نئی دنیا بسا لینے کی ایک کمزور خواہش میں

پرانے گھر کی دہلیزوں کو سونا چھوڑ آئے ہے ۔۔
ہماری اہلیہ تو آگئی ماں چھوٹ گئی آخر

کہ ہم پیتل اٹھا لائے ہے سونا چھوڑ آئے ہے!!
عقیدت سے کلائی پر جو ایک بچی نے باندھی تھی

وہ راکھی چھوڑ آئے ہے وہ رشتہ چھوڑ آئے ہے!!
یقیں آتا نہیں لگتا ہے کچی نیند میں ہے شائد

ہم اپنا گھر گلی اپنا محلہ چھوڑ آئے ہے ۔۔
ہمیں ہجرت کی اندھیری غفاء میں یاد آتا ہے

اجنٹا چھوڑ آئے ہے ایلورہ چھوڑ آئے ہے۔۔
سبھی تہوار مل جل کر مناتے تھے وہاں جب تھے

دیوالی چھوڑ آئے ہے دسہرا چھوڑ آئے ہے۔۔
کسی کی آنکھ ابھی تک یہ شکایت کرتی ہے ہم سے

کہ ہم بہتے ہوئے کاجل کا دریا چھوڑ آئے ہے۔۔۔
ابھی جب باریشوں میں بھیگتے ہے تو یاد آتا ہے

کے چھپر کے نیچے اپنا چھاتا چھوڑ آئے ہے ۔۔
یہاں آتے ہوئے ہر قیمتی سامان لے آئے

مگر اقبال کا لکھا ترانہ چھوڑ آئے ہے ۔۔
ہمالیے سے نکلتی ہر ندی آواز دیتی تھی

میاں آو وضو کر لو یہ جملہ چھوڑ آئے ہے۔۔۔
وضو کرنے کو جب بھی بیٹھتے ہے یاد آتا ہے

کہ ہم جلدی میں جمونہ کا کنارا چھوڑ آئے ہے۔۔
محرم میں ہمارا لکھنو ایران لگتا تھا

مدد مولی حسین آباد روتا چھوڑ آئے ہے۔۔۔
ہنسی آتی ہے اپنی اداکاری پر خود ہم کو

بنے پھرتے ہے یوسف اور زلیخا چھوڑ آئے ہے۔۔۔
یہ دو کمروں کا گھر یہ سلگتی زندگی اپنی

وہاں اتنا بڑا نوکر کا کمرہ چھوڑ آئے ہے ۔۔۔
ہم ہی غالب سے نادم ہے ہم ہی تلسی سے شرمندہ

ہم ہی نے میر کو چھوڑا ہے میرا چھوڑ آئے ہے۔۔
اگر لکھنے پہ آجائے تو سیاہی ختم ہوجائے

کہ تیرے پاس آئے ہے تو کیا کیا چھوڑ آئے ہے۔۔۔